Saturday, 3 March 2018

RUSSIA PRESIDENT PUTEN LIKELY TARGT IS FLORIDA STATE- WHY?


Resource: http://www.bbc.com/urdu/world-43250463


روسی صدر پوتن فلوریڈا پر بم کیوں گرانا چاہتے ہیں؟


Animated video shows weapons reaching Floridaتصویر کے کاپی رائٹRUSSIAN GOVERNMENT
Image captionروسی صدر کے سالانہ خطاب کے دوران یہ ویڈیو دکھائی گئی

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روس کے نئے ناقابلِ تسخیر جوہری ہتھیار سے پردہ اٹھایا جس کی گرافک ویڈیو میں اسے فلوریڈا کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
لیکن کریملن کسی جوہری جنگ کی صوری میں سن شائن کہلانے والی ریاست کو کیوں نشانہ بنانا چاہتی ہے۔
فلوریڈا میں سیاحتی مقامات ہیں جن میں والٹ ڈزنی ورلڈ اور ایوورگلیڈز نیشنل پارک شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یہاں کچھ بڑے اہم اہداف بھی ہیں جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مارے لاگو ریزورٹ بھی ہے۔
امریکی محکمۂ دفاع پینٹا گون کی ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں صدر پوتن کی بیان بازی پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔
پینٹا گون کی ترجمان ڈانا وائٹ نے روسی دھمکی کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا ’امریکی عوام اس بات کا یقین رکھیں کہ ہم پوری طرح سے تیار ہیں۔‘
روسی صدر کی اس ویڈیو میں اینیمیشن کے ذریعے دکھایا گیا ہے کہ اس کے نئے ہتھیار امریکہ کی جانب جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی ریاست فلوریڈا میں جوہری ہتھیاروں سے محفوظ رہنے کے لیے کئی مورچے بنائے گئے ہیں جہاں وہ صدر بننے کے بعد کئی چھٹّیاں گزار چکے ہیں۔
مارے لاگو بنانے والوں نے تین مورچے سنہ 1927 میں کوریا کی جنگ کے دوران بنائے۔
صدر ٹرمپ کے گالف کورس میں بنا ایک دوسرا بم شلٹر مغربی پام بیچ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے۔
ایک اور بنکر سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے لیے بھی بنایا گیا جو مارے لاگو سے زیادہ دور نہیں ہے۔
یہ پام بیچ ہاؤس سے 10 منٹ کے فاصلہ پر ہے جہاں اکثر صدر جان ایف کینیڈی قیام کیا کرتے تھے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھر بنکر براہِ راست ایٹمی حملے کا مقابلہ کرنے کا اہل نہیں۔
ایک اور عسکری ہدف امریکی سنٹرل کمانڈ ہوسکتی ہے جس کا صدر دفتر ٹامبا میں میکڈل کا ہوائی اڈا ہو سکتا ہے۔

Vladimir Putin stands on stage during annual addressتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionصدر پوتن مارچ 1028 کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں

سینٹکام کہلانے والا یہ ادارہ مشرقِ وسطی، سنٹرل ایشیا اور نارتھ افریقہ میں کارروائیوں کا ذمہ دار ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کسی بھی جوہری لڑائی کی صورت میں فلوریڈا کو نشانہ بنائے جانے کا امکان کم ہے۔
میتھیو کروئنگ اپنی کتاب ’دی لاجک آف امریکن نیوکلیئر سٹریٹیجی‘ میں لکھتے ہیں کہ روس کی ترجیح یہ ہوگی کہ وہ امریکہ کی مزاحمت کی صلاحیت کو نشانہ بنائے۔
ان کا خیال ہے ’روس شاید امریکہ کے جوہری گوداموں کو نشانہ بنائے۔ موتانا کا مالسٹورم ہوائی اڈہ، شمالی ڈیکوٹا میں مینوٹ فوجی ہوائی اڈہ، اوماہا کی آفٹس ائیر فورسز بیس میں قائم امریکی سٹریٹیجک کمانڈ کا ٹھکانہ، نبراسکا، اور وارن میں فضائی فوج کا اڈہ جس کی سرحدیں ویامنگ، کولاراڈو اور نبراسکا سے ملتی ہیں اس کا نشانہ ہو سکتے ہیں۔ ‘
وہ لکھتے ہیں کریملن امریکہ کی آبدوزوں کے آڈوں کو بھی نشانہ بنائے گا جن میں سے ایک بینگو بیس وانشگٹن میں ہے جبکہ دوسری کنگز بے، جارجیا میں ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ بھر میں 70 کے قریب فوجی اڈے ہیں۔
ان کے بقول بحیثیت مرکمِ کمانڈ اینڈ کنٹرول واشنگٹن کو مرکزی ہدف ہو گا ہی لیکن اس کے علاوہ روس امریکہ کے 131گنجان شہروں کو نشانہ بنا سکتا ہے تاکہ اس کی صنعتی صلاحیت تباہ کی جا سکے اور زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلائی جائے۔
انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے مارک فٹز پیٹرک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فلوریڈا کو نشانہ بنانے والی ویڈیو نشر کرنا جنگی حکمتِ عمل کا حصہ نہیں ہے۔‘
’یہ ایک پیغام ہے۔ یہ ویڈیو دراصل علامتی ہے۔ محض ایک آرایشی بیان بازی۔‘


Friday, 2 March 2018

BILL GATE SAYS: CRYPTO CURRENCY ARE DANGEROUS FOR MANY


Sorce: http://www.bbc.com/urdu/science-43259860

کرپٹو کرنسی خطرناک ہیں اور موت کا سبب بنتی ہیں: مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس

بل گیٹستصویر کے کاپی رائٹAFP
ٹیکنالوجی اور سافٹ وئیر بنانے والی کمپنی مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا شمار بھی ان بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی کے منتظمین میں شامل ہو گیا ہے جو کرپٹو کرنسی کی مخالفت کرتے ہیں۔
انٹرنیٹ کی ویب سائٹ ریڈ اِٹ سے بات کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ 'کرپٹو کرنسی خطرناک ہے اور موت کا سبب بنتی ہے۔ '
بل گیٹس کے مطابق کرپٹو کرنسی کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکام ان کی نگرانی نہیں کر سکتے اور انھوں نے اپنے خدشے اظہار کیا کہ اس کرنسی کے استعمال سے معاشرے میں منفی اثرات سامنے آئیں گے۔
'حکومتوں کی صلاحیت جس کی مدد سے وہ کالے دھن کو سفید کرنے والی رقم، ٹیکس چوری اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی نگرانی کرتے ہیں معاشرے کے لیے اچھی بات ہے۔'
انھوں نے کرپٹو کرنسی کے بارے میں مزید کہا: 'کرپٹو کرنسی کی خاص بات ہے کہ انھیں نامعلوم طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ اچھی بات نہیں ہے۔ لوگ اس کی مدد سے جان لیوا منشیات خریدتے ہیں جس سے لوگوں کی براہ راست موت واقع ہوتی ہے۔'
گیٹستصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
بل گیٹس نے اپنی گفتگو میں کرپٹو کرنسی کے علاوہ دیگر ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی تبصرہ کیا۔
ٹیسلا اور سپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کی نئی اخترا ہائپر لووپ، جس کی مدد سے برق رفتار سفر ممکن ہو سکے گا، کے بارے میں بل گیٹس کا کہنا تھا کہ 'سفر کرنے کا یہ تصور کچھ واضح نہیں ہے اور اس میں حفاظت و سلامتی برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔'
دوسری جانب بل گیٹس نے خودکار نظام کے سلسلے کی تعریف کی اور کہا کہ صنعتی انقلاب کے بعد سے صنعتوں میں خود کار نظام استعمال ہو رہا ہے۔ 'ہمیں چاہیے کے لوگوں کو نئی آنے والی نوکریوں کے بارے میں سکھائیں۔'
لیکن اپنی گفتگو میں بل گیٹس نے خطرے کی گھنٹی بھی بجائی جب انھوں نے کہا کہ دنیا بھر کے معاشی نظام کی صحت اچھی نہیں ہے اور انھوں نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم مستقبل میں دوبارہ ایسے معاشی بحران کا سامنا کر سکتے ہیں جیسا 2008 میں آیا تھا۔'

RUSSIA: NUKE WEAPONARY IS CONFIRMED BY US


Source: http://www.bbc.com/urdu/world-43245984

جوہری ہتھیاروں سے متعلق روسی صدر کا اعلان امریکی خدشات کی تصدیق ہے: امریکہ

پوتنتصویر کے کاپی رائٹRONALD GRANT
Image captionوائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ امریکہ اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کر کے اس بات کو یقینی بنائے گا
امریکہ کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق روسی صدر کا اعلان امریکہ کے خدشات کی تصدیق کرتا ہے۔
روس کے صدر ولادی میر پوتن نے جمعرات کو اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ اُن کے ملک نے ایسے ’ناقابل تسخیر‘ جوہری ہتھیار تیار کر لیے ہیں جو دنیا میں کہیں بھی مار کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
روس کے صدر کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوریٹ نے کہا ہے کہ صدر پوتن کا یہ بیان اُن معلومات کی تصدیق ہے جن کے بارے میں امریکہ پہلے سے جانتا تھا۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ امریکہ اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کر کے اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اس کی دفاعی صلاحیت دنیا میں کسی سے بھی کم نہ ہو۔
روسی صدر پوتن نے نئے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا دعویٰ اپنے چوتھے صدارتی انتخابات سے قبل کیا اور یہ نئے صدارتی انتخاب سے قبل صدر پوتن کا آخری صدارتی خطاب تھا۔
صدر پوتن چوتھی بار صدر ’منتخب‘ ہونے سے صرف 17 روز ہی دور ہیں۔
روس کے سرکاری ٹی وی چینل پر صدر پوتن کی تقریر کے دوران ان دو ہتھیاروں کی ویڈیو چلائی جنھیں صدر پوتن نے بطور نئے ’ناقابل تسخیر‘ ہتھیار قرار دیا تھا۔
پوتنتصویر کے کاپی رائٹYURI KADOBNOV/GETTY IMAGES
Image captionروسی صدر پوتن نے نئے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا دعویٰ اپنے چوتھے صدارتی انتخابات سے قبل کیا
انھوں نے کہا کہ روس ایسے ڈرون بھی تیار کر رہا ہے جنھیں آبدوز سے چھوڑا جا سکے گا۔ یہ ڈرون جوہری حملہ بھی کر سکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ روس کے اس نئے ہتھیار کو یورپ اور ایشیا میں جال کی طرح بچھا امریکی دفاعی نظام بھی نہیں روک سکتا ہے۔
پوتن نے روسی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے دو گھنٹے خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیے

امریکہ کو جواب؟

تجزیہ کاروں کے مطابق روسی صدر کا یہ بیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی طاقت بڑھانے والے بیان کے جواب میں آیا ہے۔ امریکہ نے پچھلے مہینے جوہری طاقت کو بڑھانے اور چھوٹے ایٹمی ہتھیارتیار کرنے کی بات کی تھی۔
امریکہ کے اس بیان کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ روس کو چیلنج کرنے کے لیے دیا گیا۔
چین اور امریکہ بھی ایسے ہی میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو دنیا میں کہیں بھی مار کر سکیں۔ پوتن نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے اپنی فوجی طاقت کو دنیا میں امن لانے کے لیے بڑھایا ہے۔
حالانکہ پوتن نے کہا ہے کہ اگر کوئی روس کے خلاف جوہری ہتھیار نکالے گا تو روس دوگنی طاقت سے اس کا جواب دے گا۔


متعلقہ عنوانات