Friday, 2 November 2018

SAUDI JAMAL KHASHQJI DANGEROUS TERRORIST: BY SALMAN


Source: https://www.dawnnews.tv/news/1090403/

واشنگٹن: ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مقتول صحافی جمال خاشقجی کو ایک خطرناک شدت پسند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی صحافی مصر کی اسلامی تنظیم، ’اخوان المسلمون‘ سے تعلقات تھے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس معاملے سے قریبی لوگوں کے مطابق مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بعد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر جوہن بولٹن کو کال کی اور کہا کہ جمال خاشقجی ایک ’خطرناک شدت پسند‘ تھے۔
ولی عہد کی جانب سے یہ کال سعودی عرب کی جانب سے جمال خاشقجی کی موت کی تصدیق سے پہلے کی گئی تھی، جس میں محمد بن سلمان نے جیرڈ کشنر اور جوہن بولٹن پر زور دیا تھا کہ وہ امریکا اور سعودی عرب کے اتحاد کا تحفظ کریں۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جمال خاشقجی اسلامی تنظیم ’اخوان المسلون‘ کے رکن تھے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر حکام اور جوہن بولٹن اس گروپ کے ایک طویل عرصے تک مخالفت کرتے رہے تھے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکا کے لیے سعودی سفیر خالد بن سلمان نے گزشتہ ماہ جمال خاشقجی کو ایک ’دوست‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے ’اپنی زندگی کا اہم حصہ ملک کے لیے وقف کردیا‘۔
دوسری جانب جمال خاشقجی کے اہل خانہ نے سعودی ولی عہد کی جانب کی بات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ مقتول صحافی کو خطرناک شدت پسند قرار دینا غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’جمال خاشقجی اخوان المسلمون کے رکن نہیں تھے‘ اور وہ کئی برسوں سے ان دعووں کی تردید کرتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ جمال خاشقجی کوئی خطرناک شخص تھے، اس طرح کے دعوے بے بنیاد ہیں‘۔
ادھر اس معاملے کے قریبی ساتھی کا کہنا تھا کہ جوہن بولٹن کی جانب سے اس طرح کا اشارہ نہیں دیا جس میں سعودی ولی عہد کی جمال خاشقجی سے متعلق بات کی تائید کی گئی ہو۔
انہوں نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے اس طرح کے حساس معاملات پر سعودیوں سے بات چیت کرنے سے انکار کیا یا یہ کہا کہ جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بعد سعودی ولی اہد اور جیرڈ کشنر کے درمیان اس طرح کی کئی کال ہوئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ محمد بن سلمان نے جیرڈ کشنر سے کئی مرتبہ بات کی تھی لیکن سب سے حالیہ بات 9اکتوبر کو جوہن بولٹن اور جیرڈ کشنر کو کی گئی تھی۔
علاوہ ازیں سعودی حکام نے سعودی ولی عہد پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اعلیٰ امریکی حکام اور محمد بن سلمان کے درمیان ’وقتاً فوقتاً معمول کی کالز‘ ہوتی ہیں لیکن ’اس طرح کی کوئی بات نہیں کی گئی تھی‘۔

جمال خاشقجی کا قتل: کب کیا ہوا؟

خیال رہے کہ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔
صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔
تاہم ترک ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔
سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔
تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔
اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔
سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔
اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب ملوث ہوا تو اسے سخت قیمت چکانا پڑے گی۔
17 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈے نے معروف صحافی کی مبینہ گمشدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کا دورہ اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ملتوی کردی تھی۔
اسی روز سعودی صحافی خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا ۔
بعد ازاں گزشتہ روز سعودی عرب کے جلاوطن شہزادے خالد بن فرحان السعود نے الزام لگایا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی مبینہ گمشدگی کے پیچھے ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے اور سعودی حکمراں کسی نہ کسی پر الزام دھرنے کے لیے 'قربانی کا کوئی بکرا' ڈھونڈ ہی لیں گے۔
دریں اثناء 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔

Thursday, 1 November 2018

ISLAM: WHO IS KHADIM HUSSAIN RIZVI (TAHREEK-E-LABBAIK) WHERE HE COMES FROM


Source: https://www.bbc.com/urdu/pakistan-43473618

خادم حسین رضوی کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟

خادم حسین رضویتصویر کے کاپی رائٹAFP
مذہبی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے بانی خادم حسین رضوی کے بارے میں چند برس پہلے تک کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے اس برس مارچ میں تو خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی بھی اس بات پر سرزنش کی تھی کہ ان کے پاس خادم حسین کے بارے میں یہ معلومات کیوں نہیں کہ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آرہا ہے، ان کا ذریعہ معاش کیا ہے، کیا کاروبار کر رہے ہیں یا چندے پر چلتے ہیں۔

خادم حسین رضوی کا آغاز

لاہور کی ایک مسجد کے 52 سالہ خطیب نے اصل شہرت نومبر 2017 میں اسلام آباد کے فیض آباد چوک میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے خلاف ایک طویل لیکن بظاہر کامیاب دھرنا دے کر حاصل کی تھی۔ اس سے قبل وہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کے معاملے میں بھی کافی سرگرم رہے تھے اور وہیں سے انھوں نے اپنی دینی سرگرمیوں کو سیاست کا رنگ دیا۔
بریلوی سوچ کے حامل خادم حسین رضوی کو ممتاز قادری کے حق میں کھل کر بولنے کی وجہ سے پنجاب کے محکمۂ اوقاف سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے ستمبر 2017 میں تحریک کی بنیاد رکھی اور اسی برس ستمبر میں این اے 120 لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں سات ہزار ووٹ حاصل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔
یہ بھی پڑھیں!
مبصرین کا کہنا ہے کہ ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کے بعد سے بریلوی طبقے کے قدامت پسندوں نے زیادہ متحرک سیاسی کردار اپنایا ہے۔ لیکن پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد میں اضافہ اور بریلوی دیوبندی اختلاف سال 2012 کے بعد سے دیکھا جا رہا ہے۔
خادم حسین رضوی کو گذشتہ برس کے احتجاجی دھرنے میں سنی تحریک کی بھی حمایت حاصل رہی تھی۔
خادم حسین رضویتصویر کے کاپی رائٹAFP

انھیں کس کی حمایت حاصل ہے؟

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت میں فیض آباد دھرنے سے متعلق تاثر تھا کہ اس دوران احتجاج کرنے والوں کو کسی نہ کسی صورت پاکستان فوج کی حمایت حاصل تھی۔ اس بابت احتجاج کے اختتام پر رینجرز کی جانب سے مظاہرین میں رقوم کی تقسیم کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
فوج اس حمایت سے انکار کرتی رہی لیکن اب آسیہ بی بی کے تنازعے میں ملک بھر میں دھرنوں کے پیچھے کون ہے اور تحریک لبیک کو کس کی حمایت حاصل ہے یہ سوال دوبارہ پوچھا جا رہا ہے۔
تاہم مبصرین کے خیال میں ماضی میں انھیں کسی کی پشت پناہی حاصل ہو یا نہ ہو اس مرتبہ وہ معاشرے کے ایک خاص قدامت پسند طبقے میں اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر سڑکوں پر نکلے ہیں۔
اب وہ اور ان کی تحریک کے دیگر سینئر رہنما جس قسم کی زبان فوج اور عدلیہ کے خلاف استعمال کرتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ انھیں اپنی طاقت پر حد سے زیادہ اعتماد ہوگیا ہے۔
ویل چیئر تک محدود ہونے کے باوجود خادم حسین رضوی پاکستان میں توہین رسالت کے متنازع قانون کے ایک بڑے حامی بن کر سامنے آئے ہیں۔ وہ اس قانون کے غلط استعمال کے الزام سے بھی متفق نہیں۔ ان کا انداز بیان کافی سخت ہوتا ہے۔ پاکستانی میڈیا کی جانب سے کوریج نہ ملنے کا حل بظاہر انھوں نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر کے نکالا ہے۔ ناصرف اردو اور انگریزی میں ان کی ویب سائٹس اب موجود ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کئی اکاؤنٹ ہیں۔ وہ اپنے آپ کو پیغمبر اسلام کا ’چوکیدار‘ کہہ کر بلاتے ہیں۔
خادم حسین رضویتصویر کے کاپی رائٹEPA

خادم حسین رضوی کہاں سے ہیں؟

تحریک کے ایک ترجمان اعجاز اشرفی نے بتایا کہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے ہے۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی ہیں اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ ان کے دو بیٹے بھی مختلف احتجاج میں شریک رہے ہیں۔ خادم حسین ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے ہیں۔
وہ 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ ان پر مختلف نوعیت کے کئی مقدمات بھی درج ہیں۔ اعجاز اشرفی نے بتایا کہ ان مقدمات کی تعداد کتنی ہے انھیں یاد نہیں۔ لیکن تحریک کے آغاز سے اب تک انھیں گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ شاید اس کی وجہ ان کی ’سٹریٹ پاور‘ ہے۔
جنوری 2017 میں بھی توہین مذہب کے قانون کے حق میں انھوں نے لاہور میں ایک ریلی نکالی تھی جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا۔ انھیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا اور انھیں آج بھی پنجاب حکومت نے فورتھ شیڈول میں رکھا ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ انھیں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کو آگاہ رکھنا ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی کی ایک رپورٹ کا کہنا ہے کہ ’خادم حسین رضوی اپنے اونچے عہدے والوں کے سامنے مغرور اور ماتحتوں کے ساتھ بدتمیز ہیں‘۔

تحریک لبیک کے مالی وسائل کیا ہیں؟

خادم حسین رضوی کو اپنی سرگرمیوں کے لیے وسائل کہاں سے ملتے ہیں یہ واضح نہیں لیکن اسلام آباد دھرنے کے دوران انھوں نے اعلان کیا کہ نامعلوم افراد لاکھوں روپے ان کو دے کر جا رہے ہیں۔ ان سے متعلق انٹرنیٹ پر ایک مضمون کے اختتام پر آسٹریلیا سے ایک شخص ان کا پتہ اور بنک اکاؤنٹ مانگ رہا ہے تاکہ انھیں رقم بھیج سکے۔ اس کے علاوہ ویٹس ایپ پر ایک فون نمبر کے ساتھ ایک پیغام گردش کر رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر احتجاج کے دوران کسی کارکن کو کوئی سہولت مثلاً موبائل بیلنس، پیسے یا کھانا درکار ہو تو اُس نمبر پر پیغام بھیجے۔ اس سے بظاہر لگتا ہے کہ اندرون و بیرون ملک دونوں جانب سے انھیں فنڈز ملتے ہیں۔
گذشتہ برس کے دھرنے کے بعد آئی ایس آئی کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق خادم رضوی ’مالی بدعنوانی میں ملوث رہے ہیں، اور ان کی ساکھ غیر تسلی بخش ہے‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دھرنے کی منظم انداز میں مالی سپورٹ کی باتیں افواہیں ہیں اور دھرنے والوں کو عوام میں سے چند افراد نے خوب عطیات دیے جن میں مقامی علما اور گدی نشین شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ’پولیس دھرنے والوں کو دی جانے والی لوجسٹکل سپورٹ روکنے کی نہ تو صلاحیت رکھتی تھی اور نہ ہی روکنا چاہتی تھی‘۔
خادم حسین رضویتصویر کے کاپی رائٹAFP

خادم رضوی کا انداز بیان

خادم حسین رضوی کی گرمجوش تقاریر سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی طاقت سے کافی مرعوب ہیں۔ ان کے پیرو کار ان کی بدزبانی اور گالیوں پر بھی آنکھیں بند کر کے واہ واہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کی کڑی تنقید کا نشانہ محض صاحب اقتدار ہی نہیں بلکہ مرحوم عبدالستار ایدھی جیسی شخصیت بھی رہی ہیں۔
ان کی سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز محض اس لیے وائرل ہوئیں کہ وہ ملک کو قرضوں سے چھٹکارے کی جس قسم کی تجاویز دیتے ہیں اس پر لوگ صرف ہنس ہی سکتے ہیں۔ وہ اپنے اجتماع میں آئے ہوئے صحافیوں اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو بھی بڑے سخت انداز میں مخاطب کرتے رہے ہیں۔ پھر وہ ایسے دعوے بھی کرتے ہیں جنھیں عملی جامعہ پہنانا شاید ناممکن ہو۔ ایسا ہی ایک بیان انھوں نے کراچی میں دیا تھا کہ ’اگر ان کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ ہالینڈ کو کارٹون بنانے کا مقابلہ منعقد کرنے سے پہلے ہی پوری طرح سے برباد کردیتے۔‘
جس قسم کی سخت اور ریاست مخالف تقاریر انھوں نے حالیہ دنوں میں لاہور میں کی ہیں اگر اس کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی تو اس سے ان کے زیادہ ’نڈر اور بےباک‘ ہونے کا خطرہ ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے بال اب ایک مرتبہ پھر حکومت کے کورٹ میں آیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں