Sunday, 29 April 2018

US; EMBASY STAFF CRUSHED TWO BICYCLE RIDER, REMIDS RAYMOND DAVIS 2011


Source: https://www.bbc.com/urdu/pakistan-43944824

امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے دو موٹرسائیکل سوار زخمی

اسلام آباد
Image captionامریکی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکریٹری چاڈ ریکس کو گاڑی سمیت تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کیا گیا
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اور امریکی سفارت کار کی گاڑی کی ٹکر سے دو موٹرسائیکل سوار زخمی ہو گئے ہیں جنھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں اتوار کی شب پیش آنے والا یہ واقع سیکریٹریٹ چوک کے قریب ہوا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سیکرٹریٹ چوک پر امریکہ سفارت خانہ کے سیکنڈ سیکریٹری کی گاڑی نے ایک موٹر سائیکل کو ٹکر ماری، جس سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اس بارے میں مزید جانیے

پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی امریکی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکریٹری چاڈ ریکس چلا رہے تھے، جنھیں بعد میں گاڑی سمیت تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایک ماہ کے دوران امریکی سفاتکاروں کی گاڑی کی ٹکر کا یہ دوسرا واقع ہے۔
امریکی سفارتکار
Image captionپولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی امریکی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکریٹری چاڈ ریکس چلا رہے تھے
اس سے پہلے امریکی سفارت خانے کے فوجی اتاشی کرنل جوزف نے اشارہ توڑ کر ایک پاکستانی طالب علم کی موٹرسائیکل کو ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ طالب علم ہلاک اور اس کا ساتھی شدید زخمی ہو گیا تھا۔
حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوان عتیق بیگ کے والد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست دائر کی تھی۔
اسلام آْباد ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت جاری ہے جبکہ وزارتِ داخلہ نے عدالت کو بتایا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو کچلنے کے واقعے میں ملوث امریکی سفارتکار کرنل جوزف امینوئل ہال کو بلیک لسٹ کر دیا ہے جس کے بعد وہ متعلقہ حکام یا عدالت کی اجازت کے بعد ہی ملک چھوڑ سکتے ہیں۔
پاکستانی حکام نے امریکی سفارت کار کی گاڑی سے ٹکرانے کے نتیجے میں طالب علم کی ہلاکت کے واقعے پر امریکی سفیر دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا تھا۔
یاد رہے کہ عام طور پر ایسے معاملات میں سفارت کاروں کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔
ٹریفک حادثہتصویر کے کاپی رائٹISLAMABAD POLICE
Image captionحادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید گاڑی نے اشارہ توڑا ہے
اس سے قبل 2011 میں ایک امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، جبکہ بعد میں انھیں لینے کے لیے آنے والی گاڑی نے سڑک کی رانگ سائیڈ پر چلتے ہوئے ایک شخص کو ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
اس واقعے کے بعد امریکہ نے پاکستان پر شدید سفارتی دباؤ ڈال کر ریمنڈ ڈیوس کو رہا کروا دیا تھا۔

Saturday, 28 April 2018

SAUDI REVOLUTIONIZED FAITH CONSERVATISM INTO STATE OF THE ART WIDE SPECTRUM WALKS


Source: https://arynews.tv/en/saudi-entertainment-city-investors/

Saudi entertainment city casts wide net for investors and contractors

RIYADH:  A new entertainment city that Saudi Arabia has started building southwest of the capital is seeking a broad range of financing from local and international sources, the project’s chief executive told Reuters.
Qiddiya is one of three mega-projects managed by the kingdom’s main sovereign wealth fund, the Public Investment Fund (PIF), as part of ambitious reforms aimed at overhauling the economy of the world’s top oil exporter and providing jobs for an overwhelmingly young population.
The other two initiatives are NEOM – a $500 billion business and industrial zone extending into Egypt and Jordan – and the Red Sea project, which includes a nature reserve, diving in coral reefs and heritage sites on about 50 islands.
Qiddiya CEO Michael Reininger said the PIF’s contribution would probably exceed 50 percent, with the rest likely financed through bonds, direct investment and other tools.
“Perhaps all at the same (time). All of those financial strategies are what we’re working on every day,” he said in an interview ahead of a groundbreaking ceremony on Saturday.
Reininger would not specify the expected investment value for Qiddiya except to describe it as “incredibly sizeable”.
Local media have reported the cost of the project’s infrastructure alone would reach up to 30 billion riyals ($8 bln) and the project would eventually be worth tens of billions of riyals.
Qiddiya will be built on a 334 sq km site about an hour’s drive from Riyadh, making it 2-1/2 times the size of Disney World.
It will include a Six Flags theme park and other attractions like water parks and motor sports. There will also be sports training, arts and cultural events, and vacation homes.
Already some 50 people are directly employed by Qiddiya, with hundreds more contracted as local suppliers and global advisors. Those numbers are expected to reach 55,000 when the first phase opens in 2022.
An official spokesman said Qiddiya expects to develop 34 sq km of land and attract 1.5 million visitors annually by then.
The project aims to be the epicenter of entertainment, cultural and sports activity.
Saudi king

GIANT MARKET

With two thirds of the population under 35 and few local entertainment offerings, many Saudis flock to nearby Bahrain or Dubai seeking fun at the weekends. The state wants to secure up to a quarter of the $20 billion currently spent on entertainment overseas each year.
“Capturing as much of (those expenditures) as I possibly can is the objective and at the same time creating a bigger pie so that I can get the disproportionate share of that bigger pie that we create at the same time,” Reininger said.
“We’re not just going to go around the world, find things and copy them. We’re going to innovate and we’re going to stay ahead of the curve.”
Reininger, an American who joined Qiddiya last month, previously worked on a high-speed rail system in Florida, oversaw large-scale resort developments for the Walt Disney Company, and was a senior executive at engineering firm AECOM.
Asked about avoiding the pitfalls of other mega projects in the region, which have suffered long delays and cost overruns and sometimes fell far short of expected returns, Reininger said Qiddiya stood apart by fulfilling a clear economic need.
“It’s a giant market, there’s not a lot of competition, there’s a clear opportunity. That’s the kind of thing you want to invest in,” he said.
Asked whether social restrictions in place in other parts of Saudi Arabia, like gender segregation and a strict dress code for women, would apply, Reininger said Qiddiya would stay “on the leading edge” of changes in the kingdom, which has eased many of those rules in recent years.
Entertainment has been a prominent success of Crown Prince Mohammed bin Salman’s reform drive, with public concerts and shows now a regular occurrence and a nearly 40-year ban on cinemas lifted this month.
Print Friendly, PDF & Email

IND: MULTI-FAITHS AND MULTI-CULTURAL CHARACTER IN DEFICIT


Source: https://www.bbc.com/urdu/regional-43932490

’انڈیا کا کثیر مذہبی، کثیر الثقافتی کردار خطرے میں ہے‘


مودیتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionرپورٹ کے مطابق انڈیا کے وزیراعظم تشدد کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی جماعت کے لوگ انتہا پسند ہندو تنظیموں سے منسلک ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد مذہبی اقلیتوں کے تعلق سے ناروا زبان کا استعمال کرتے ہیں

بین الاقوامی مذہبی آزادی کے امریکی ادارے یو ایس سی آئی آر ایف نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ انڈیا میں مذہبی آزادی میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
یہ رپورٹ اس لیے اہم ہے کیونکہ یو ایس سی آئی آر ایف ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کا قیام سنہ 1998 میں بین الاقوامی مذاہب کی آزادی کے ایکٹ کے تحت عمل میں آیا تھا۔ اس تنظیم کا کام امریکی حکومت کو مشورہ دینا ہے۔
ادارے کی سنہ 2018 کی رپورٹ میں انڈیا میں مذہبی آزادی کے تعلق سے نریندر مودی حکومت کے رویے پر کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کا کثیر مذہبی، کثیر الثقافتی کردار خطرے میں ہے کیونکہ وہاں ایک مذہب کی بنیاد پر جارحانہ طریقے سے قومی شناخت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس رپورٹ میں انڈیا کی دس ریاستوں اتر پردیش، آندھرا پردیش، اڑیسہ، بہار، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات اور کرناٹک کا ذکر کیا گيا ہے جہاں مذہبی آزادی کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ انڈیا کی باقی ریاستوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں مذہبی اقلیتیں زد پر نہیں ہیں۔
یو ایس سی آئی آر ایف نے رواں سال 12 ممالک کو دوسرے درجے میں رکھا ہے جنھیں 'كنٹريز آف پرٹیكولر كنسرن' یا سی پی سی کہا گیا ہے۔ یہ ایسے ممالک ہیں جہاں مذہبی آزادی کے تعلق سے حالات تشویش ناک ہیں۔

رپورٹتصویر کے کاپی رائٹUSCIRF/BBC
Image captionانڈین حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن مودی حکوت نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے: یو ایس سی آئی آر ایف

ان ممالک میں افغانستان، آزربائیجان، بحرین، کیوبا، مصر، انڈیا، انڈونیشیا، عراق، قزاقستان، لاؤس، ملائیشیا اور ترکی شامل ہیں۔
انڈیا کے حوالے سے مخصوص پانچ صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کے 'وزیراعظم تشدد کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی جماعت کے لوگ انتہا پسند ہندو تنظیموں سے منسلک ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد مذہبی اقلیتوں کے تعلق سے ناروا زبان کا استعمال کرتے ہیں۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن مودی حکوت نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔

صرف تنقید کافی نہیں

اس رپورٹ میں فرقہ وارانہ تشدد اور فسادات کے متاثرین کو انصاف نہ ملنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’مودی انتظامیہ نے ماضی میں بڑے پیمانے پر ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کیا ہے۔ ان میں سے کئی پر تشدد فسادات ان (مودی) کی پارٹی کے لوگوں کی اشتعال انگیز تقاریر کے سبب ہوئے۔‘

مظاہرہتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionاس رپورٹ میں فرقہ وارانہ تشدد اور فسادات کے متاثرین کو انصاف نہ ملنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے

اس رپورٹ میں گائے کو ذبح کرنے کے شبہے پر تشدد، مسیحی مبلغین پر دباؤ اور ان کے خلاف تشدد، غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے این جی او کے کام کو روکنا اور تبدیلی مذہب مخالف قانون پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ میں انڈیا کی عدلیہ کی تعریف بھی کی گئی ہے۔
یو ایس سی آئی آر ایف نے کہا ہے کہ انڈیا میں ایک آزاد عدلیہ ہے جس نے بہت سے معاملات میں بامعنی مداخلت کی ہے۔ اس ضمن میں مثال کے طور پر ہادیہ کے قبول اسلام کا ذکر ہے جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا 'ہر بالغ شہری کو اپنی شادی کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو دس تجاویز دی گئی ہیں جن میں انڈیا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ان معاملات کو اٹھانا اور انڈیا میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی حالت میں بہتری لانے کے لیے دباؤ ڈالنا وغیرہ شامل ہے۔
اس سے قبل انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ ’انڈین حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف سنہ 2017 میں ہونے والے حملوں کی قابل اعتماد تفتیش کرانے یا انھیں روکنے میں ناکام رہی ہے۔‘