Sunday, 27 January 2019

UK, IND AND ROHNGA MUSLIMS & IND & BURMA SOCHI , SOUTH ASIA FANATISM


ACTION RESEARCH FORUM, OH GOD LET US LIVE OUR SHELTER OF MANKIND, BUT NOROOM FOR CERTAIN NATIONS, BEHAVING LIKE ADOLF HITLER WHOSE CRAZE LED TO WWII AND OUSTED BRISTISHERS FROM ASIA, LIKEWISE TRUMP HYPOCRRICY ON ECONOMY COMPELLINF HIM WITHDRAWAL.


Source: https://www.bbc.com/urdu/regional-41753262

روہنگیا کے معاملے میں انڈیا کا موقف درست نہیں: برطانوی وزیر

پریتی پٹیل، روہنگیا، انڈیاتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionانڈین نژاد پریتی پٹیل برطانیہ میں بین الاقوامی ترقی کی سیکریٹری آف اسٹیٹ کے عہدے پر فائز ہیں
برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی کابینہ میں سینئر وزیر پراتھیبا پٹیل نے روہنگیا کے مسئلے پر انڈیا کے موقف پر تنقید کی ہے۔
مرکزی حکومت نے انڈیا میں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کو بتایا ہے کہ وہ ملک کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں اور حکومت انھیں واپس میانمر بھیجنا چاہتی ہے۔
انڈین نژاد پریتی پٹیل برطانیہ میں بین الاقوامی ترقی کی سیکریٹری آف اسٹیٹ کے عہدے پر فائز ہیں۔
پریتی پٹیل نے بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کی اور انھیں متاثر کن رہنما قرار دیا۔
پریتی پٹیل نے روہنگیا مسلمانوں کے واپس ان کے وطن بھیجے جانے کے بارے میں کہا 'میرا خیال ہے کہ یہ غیر حقیقی ہے۔ وہاں زمینی صورتحال دیکھیں۔ پانچ لاکھ سے زیادہ افراد کو ستایا جا رہا ہے۔ رخائن ریاست میں نسلی کشی جاری ہے۔ وہاں سے لوگ کسی وجہ سے نکل رہے ہیں۔ وہ اس لیے نہیں جا رہے کہ وہ کسی دوسرے ملک پناہ لینا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے گھر بار کو اس لیے چھوڑ رہے ہیں کہ انھیں ستایا جا رہا ہے'۔
پریتی پٹیل نے کا کہنا تھا کہ 'یہ کہنا نامناسب ہوگا کہ پانچ لاکھ کے قریب افراد سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔ وہ اپنے گھر چھوڑ رہےہیں اپنی زندگیاں بچانے کے لیے'۔
پریتی پٹیل، روہنگیا، انڈیاتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionپریتی پٹیل نے انڈین وزیر اعظم نریندرہ مودی کی تعریف کی اور انھیں متاثر کن رہنما قرار دیا

مودی کے بارے میں پٹیل کیا کہتی ہیں؟

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے پریتی پٹیل کہتی ہیں 'وہ انڈیا کے متاثر کن رہنما ہیں جو انڈیا کے پروفائل اور اس کی آواز کو عالمی اور بین الاقوامی سطح پر اٹھا رہے ہیں'۔
پریتی کا کہنا ہے کہ وہ مودی کی ان کوششوں سے متاثر ہیں جو وہ دنیا بھر میں سفر کرتے ہوئے بھارت میں نئی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں۔
پریتی پٹیل، روہنگیا، انڈیا، نریندرہ مودیتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionپریتی کا کہنا ہے کہ وہ مودی کی ان کوششوں سے متاثر ہیں جو وہ دنیا بھر میں سفر کرتے ہوئے بھارت میں نئی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں

مودی اور منموہن کے غیر ملکی دورے، کیا درست ہیں؟

پریتی پٹیل کا کہنا ہے کہ 'سیاستدانوں پر بڑی آسانی سے تنقید کی جا سکتی ہے۔ کبھی بھی ملک کے اندر ان کی متعارف کرائی گئی طویل المدت تبدیلیوں پر انھیں پوری طرح سراہا نہیں گیا، معیشت اور ان کے ملک کا عالمی سطح پر موقف بیان کرنے پر ان کی پزایرائی نہیں کی جاتی'۔

پریتی پٹیل کا برطانیہ کا تجربہ؟

پریتی پٹیل نے خود کو موقع دینے پر برطانیہ کی وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت جیسے ملک کے ساتھ ایک جیسے اہداف پر کام کرنا ان کے لیے ایک موقع تھا۔
انھوں نے اپنے سیاسی سفر کے بارے میں بتایا 'میں ایک گجراتی دکاندار کی بیٹی ہوں۔ میں اس مراعات یافتہ طبقے سے تعلق نہیں رکھتی جو براہ راست سیاست میں آتا ہے'۔
ان کا کہنا تھا 'میں اس نسل سے تعلق رکھتی ہوں جو مشرقی افریقہ سے آئی دیگر کئی انڈین اور گجراتیوں شہریوں کی طرح۔ میرے والدین یہاں خالی ہاتھ آئے تھے۔ انھوں نے بہت قربانیاں دی ہیں'۔
اس سوال پر کہ اگر انھیں موقع ملا تو کیا وہ برطانوی حکومت میں کوئی بڑا عہدہ لینے کے لیے تیار ہیں؟ کیا وہ وزیر اعظم بننا چاہیں گی؟ پراتھیبا پٹیل کا کہنا تھا 'کسی کو نہیں معلوم کہ مستقبل میں کیا ہوگا'۔

متعلقہ عنوانات

Saturday, 26 January 2019

JAMIA USMANIA خیبر پختونخوا STAGE PERFORMANCE IN FAITH AND CULTURAL COLOR

ACTION RESEARCH FORUM: EVOLUTION OF BRAIN EFFECT BY MEDIA, CULTURAL BINDING AND SOCIAL EMBOZING,  BREAKING MIND SHELLS AND KOWLEDGE ENGINEERING MIX UP. RECALL  EXCEPTIONS LIKE AMAZONS' JUNGLE LIFE, WHERE THE FIRST LEARNNG IS COPYING. EXCEPTIONS ARE STATE-OF-THE ART VARIES WITH TIME.  THIS IS A SUBJECT WIDELY OPEN.

TRADITIONS ARE TIED WITH THE THE-PRESENT CULTURE; WORD KHAN, SAME IN OTHER MIX BACK GROUNDS OF CHINA, CENTRAL ASIA, 

AS WE SAY EVEN FOR FAITH EMISSORIES:  ISSA KHAN, MUSA KHAN,... TO GRACE AND TRIBAL TAGGS. 

 THE GOOD ADAPTABILITY FOR BREAKING THE SHALL.

 THISVARIANT WAS ALWAYS THERE, DUE TO LIMITATIONS OF READABILITY OF ARABIC, LOGICAL STRENGTH  AND ACUMAN FALLS IN LEARNING PROCESS. 

Source: https://www.bbc.com/urdu/pakistan-4
خیبر پختونخوا کے مدرسے میں آرٹ اور فوڈ فیسٹول
کسی دینی مدرسے کے احاطے میں سٹیج ڈرامے کا اہتمام ہو، جہاں مزاحیہ شعر و شاعری اور ہلکا پھلکا مزاح بھی ہو اور طلبہ سٹیج پر پشتونوں کے بعض تاریخی اور مشہور روایات کا مظاہرہ بھی پیش کریں، لیکن وہاں کسی ساز کی آواز سنائی نہ دے۔
شاید اپ کو یقین نہ آئے، لیکن یہ منظر خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے دینی مدرسے جامعہ عثمانیہ کا ہے، جہاں حال ہی میں پہلی مرتبہ طلبہ کے لیے آرٹ اور فوڈ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔
اس فیسٹول میں دینی مدارس کے طلبہ کے ساتھ ساتھ عام لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
جامعہ عثمانیہ پبی، نوشہرہ کیمپس میں منعقدہ اس دو روزہ نمائش میں مختلف علاقوں کے 17 کے قریب سٹالز لگائے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ہر سٹال میں مذکورہ ضلع یا علاقے کی کوئی تاریخی عمارات، وہاں کی ثقافت، لباس اور طور طریقوں کی عکاسی ایسے انداز میں کی گئی کہ ایک نظر دیکھتے ہی معلوم ہو جاتا کہ اس علاقے کا کلچر کیا ہے۔
فیسٹول
ہر سٹال میں ایک یا دو طلبہ گائیڈ کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیتے نظر آئے اور ہر آنے والے مہمان کو پورے سٹال کا دورہ کرانے کے ساتھ ساتھ انھیں وہاں رکھے گئے مختلف تاریخی ماڈلز، دینی کتب، مقامی ثقافت اور طلبہ کی جانب سے سجائے گئی چیزوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے رہے۔
نمائش میں طلبہ کی جانب سے مقامی کھیلوں کا عملی مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا جس میں ’مخہ‘ اور ’رسہ کشی‘ قابل ذکر ہیں۔ ان سٹالوں میں قدیم دور میں استعمال ہونے والا پرانا اسلحہ اور ہتھیاروں کے نمونے بھی دکھائی دیے جس میں حاضرین نے دلچپسی ظاہر کی۔
فیسٹول
تاہم فیسٹول میں موجود مہمند اور باجوڑ کا سٹال خاص طور پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ یہاں طلبہ نے پشتون معاشرے کی ایک مستند روایت، حجرے کی محفل بنا رکھی تھی۔
طلبہ نے حجرے میں چارپائیاں رکھی ہوئیں تھی جہاں ایک طالب علم پشتون ملک کا روپ دھار کر وہاں کے لوگوں کے مسائل سنتا اور پھر باری باری گاؤں کے دیگر معاملات پر بحث کی جاتی۔ اس دوران محفل میں مزاحیہ خاکے بھی پیش کیے جاتے رہے جس سے محفل میں دلچپسی برقرار رہتی۔
فسیٹول میں مختلف علاقوں کی مشہور سوغات، خشک میوجات، ثقافتی ملبوسات اور قدیم زمانے میں بادشاہوں کے زیر استعمال رہنے والے نادر اشیا بھی نظرآئیں۔
فیسٹول
فیسٹول میں موجود جامعہ عثمانیہ کے سربراہ اور عالم دین مفتی غلام الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ’کسی دینی مدرسے کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے جس کا بنیادی مقصد طلبہ کو عصری تقاضوں کا ادارک کرانا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جس رفتار سے دنیا ترقی کر رہی ہے، اس سے انھیں یہ فکر لاحق ہو رہی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مدرسوں کے طلبہ عملی میدان میں دیگر لوگوں سے پیچھے رہ جائیں۔
'دنیا آج گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکی ہے اور ہماری بھی یہی سوچ ہے کہ ہمارے طلبہ بھی ان تقاضوں کا ادراک کریں اور جب تک ایک عالم دین اور فاضل اپنے معاشرے کے احساسات کا ادارک نہ کر سکے وہ معاشرے کی بہتر خدمت نہیں کرسکتا ہے۔‘
فیسٹول
نمائش کے اختتام پر جرگے کے موضوع پر ایک سٹیج ڈرامے بھی پیش کیا گیا، جس میں طلبہ کی جانب سے مزاحیہ اور اصلاح پر مبنی خاکے پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ بعض طلبہ کی جانب سے مزاحیہ شعر و شاعری بھی کی گئی جسے حاضرین نے بہت سراہا۔
جامعہ عثمانیہ کے میڈیا انچارج مفتی سراج حسن نے کہا ’فیسٹول کے دوران طلبہ کے شعر و شاعری کے شوق کو دیکھتے ہوئے جامعہ نے ایک ادبی سوسائٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ اگلے سال اس طرح کے پروگراموں میں مشاعرے کا اہتمام بھی کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو ان کی صلاحیتوں کا بہتر انداز میں اظہار کا موقع فراہم کیا جا سکے۔
اس دو روزہ نمائش میں دینی مدارس کے طلباء کے لیے وہ تمام تر سرگرمیاں موجود رہیں جو کسی یونیورسٹی یا کالج کے پرگراموں میں ہوتے ہیں، سوائے ساز اور موسیقی کے۔
فیسٹول
جب ایک طالب علم ضماد احمد سے پوچھا کہ اس فیسٹول میں موسیقی کی آواز کیوں سنائی نہیں دی تو اس پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ موسیقی اسلام کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی اور شاید یہاں اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں